جامعہ قاسمیہ دارالتعلیم والصنعۃ، دیوبند

علم، قرآن، تربیت اور خدمتِ دین کا ایک روشن سفر

تمہید

آج کے پُرفتن اور تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں دینی تعلیم کی حفاظت، اسلامی اقدار کی بقا اور نئی نسل کی صحیح دینی و اخلاقی تربیت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ مدارسِ اسلامیہ وہ مقدس مراکز ہیں جہاں قرآنِ کریم و سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں نسلِ نو کے ایمان، علم، اخلاق اور کردار کی تعمیر کی جاتی ہے۔

ایسے اداروں کا تعاون محض مالی مدد نہیں، بلکہ دین کی خدمت، علم کی اشاعت اور آنے والی نسلوں کی اصلاح میں حصہ لینا ہے؛ اور یہی وہ نیکی ہے جو انسان کے لیے صدقۂ جاریہ بن سکتی ہے۔

اسی احساسِ ذمہ داری اور خدمتِ دین کے جذبے کے تحت جامعہ قاسمیہ دارالتعلیم والصنعۃ، قاسم پورہ روڈ، دیوبند اپنی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کے ذریعے ایک اہم دینی و تعلیمی خدمت انجام دے رہا ہے۔

جامعہ کا تعارف

جامعہ قاسمیہ دارالتعلیم والصنعۃ، قاسم پورہ روڈ، دیوبند اللہ رب العزت کے فضلِ خاص اور مخلصین کی دعاؤں و تعاون کی برکت سے بتدریج ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔

یہ عظیم دینی ادارہ حضرت مولانا مفتی محمد واصف صاحب عثمانی نور اللہ مرقدہٗ کے پاکیزہ مقصد، یعنی خدمتِ قرآن اور دینی تعلیم کے فروغ کو نہایت اخلاص و استقامت کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔

جامعہ کا مقصد محض تعلیم فراہم کرنا نہیں، بلکہ ایسی نسل تیار کرنا ہے جو دینی بصیرت، علمی صلاحیت، حسنِ اخلاق، اسلامی فکر اور عملی زندگی کی ضروری مہارتوں سے آراستہ ہو کر معاشرے کے لیے مفید اور باکردار افراد بن سکے۔

قیام کا مقصد اور فکر

جامعہ کا قیام ایک ایسے وقت میں ہوا جب جدید معاشرے میں فکری انتشار، اخلاقی کمزوری اور مادہ پرستی کے اثرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی فکر انسان کو ایمان، اخلاق، اعتدال اور صحیح طرزِ زندگی کا راستہ دکھاتی ہے۔

مدارسِ اسلامیہ دین کی حفاظت، قرآن و سنت کی تعلیم، علماء و طلبہ کی تربیت اور اسلامی تہذیب و اقدار کے فروغ کا اہم ذریعہ ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف دینی علم کو زندہ رکھتے ہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح اور روحانی رہنمائی میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے جامعہ قاسمیہ دارالتعلیم والصنعۃ نے دینی تعلیم کے ساتھ طلبہ کی ہمہ جہت تربیت کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔

بانی و مؤسس

جامعہ قاسمیہ دارالتعلیم والصنعۃ حضرت مولانا مفتی محمد واصف صاحب عثمانی نور اللہ مرقدہٗ کے پاکیزہ دینی جذبے اور خدمتِ دین کے عزم کی یادگار ہے۔

حضرت نے تعلیم و تربیت اور خدمتِ قرآن کے مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے اس ادارے کی بنیاد رکھی۔ ان کا یہ مبارک مقصد آج بھی جامعہ کی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں میں جاری و ساری ہے۔

جامعہ اسی فکر کو سامنے رکھتے ہوئے دینی ضروریات کی تکمیل، طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت اور قرآنِ کریم کی خدمت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

تعلیمی و تربیتی نظام

جامعہ میں طلبہ کی دینی تربیت کے ساتھ مختلف علمی و تعلیمی شعبوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ یہاں:

جامعہ کی کوشش ہے کہ طلبہ صرف کتابی علم تک محدود نہ رہیں، بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے کردار کو سنواریں، اسلامی اقدار کو سمجھیں اور عملی زندگی میں ان پر عمل پیرا ہونے کی صلاحیت پیدا کریں۔

دینی و عصری علوم کا امتزاج

موجودہ دور میں ایک ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو طلبہ کو دینی شعور کے ساتھ زمانے کے تقاضوں سے بھی واقف کرے۔

جامعہ قاسمیہ میں اسی ضرورت کے پیشِ نظر عصری علوم و فنون کے ساتھ اسلامی افکار و ادب، حفظِ قرآن اور قرأت پر توجہ دی جاتی ہے، تاکہ طلبہ دین سے مضبوط وابستگی کے ساتھ معاشرے کی عملی ضروریات کو بھی سمجھ سکیں۔

یہ امتزاج جامعہ کے تعلیمی وژن کا ایک اہم حصہ ہے۔

علمی و دینی شخصیات کی آمد

جامعہ قاسمیہ کی علمی و دینی سرگرمیوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ مختلف اوقات میں ملک کے ممتاز علماء، مشائخ، اہلِ علم اور اہلِ قلم نے جامعہ میں حاضری دی اور اس ادارے سے اپنی وابستگی کا اظہار فرمایا۔

ان بزرگ اور ممتاز شخصیات کی آمد جامعہ کے لیے باعثِ اعزاز بھی ہے اور اس بات کی علامت بھی کہ ادارہ اہلِ علم و فضل کی توجہ اور محبت سے بہرہ مند رہا ہے۔

جامعہ میں حاضری دینے والی ممتاز شخصیات

عارف باللہ حضرت مولانا قاری صدیق احمد صاحب باندوی رحمۃ اللہ علیہ
شیخِ کامل حضرت مولانا سید جلیل حسین میاں صاحب
فقیہُ الملّت حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام صاحب رحمۃ اللہ علیہ
خطیبُ الاثر حضرت مولانا محمد سالم صاحب، سابق مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند
متکلمِ اسلام حضرت مولانا محمد اسلم صاحب رحمۃ اللہ علیہ
فخرِ علمائے دیوبند حضرت مولانا محمد اسلام صاحب قاسمی نور اللہ مرقدہٗ
فخرِ بستی حضرت مولانا عبدالرشید صاحب بستوی نور اللہ مرقدہٗ
خطیبُ الہند حضرت مولانا مفتی مشتاق احمد صاحب غازی پوری رحمۃ اللہ علیہ
مناظرِ اسلام حضرت مولانا طاہر گیاوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ
حضرت مولانا قاضی منظور احمد صاحب کانپوری علیہ الرحمہ
حضرت مولانا کلیم صدیقی صاحب دامت برکاتہم
محترم جناب قاری نسیم احمد صاحب اعظمی، ممبئی
جناب قاری معراج احمد صاحب، ممبئی
حضرت مولانا اشتیاق احمد صاحب بستوی، ممبئی
نمونۂ اسلاف حضرت مولانا قمر الزماں صاحب الہ آبادی دامت برکاتہم
حضرت مولانا نور عالم خلیل الامینی نور اللہ مرقدہٗ
حضرت مولانا ریاست علی صاحب بجنوری، شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند
امامُ المنطق والفلسفہ حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب بستوی رحمۃ اللہ علیہ
حضرت مولانا محمد امین صاحب فیض آبادی رحمۃ اللہ علیہ
حضرت مولانا قاری قمر الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ
امامِ انقلاب حضرت مولانا فضیل احمد صاحب گورکھپوری رحمۃ اللہ علیہ
فخرُ المحدثین حضرت مولانا سید عبداللہ شاہ صاحب کشمیری رحمۃ اللہ علیہ
امیرِ شریعت حضرت مولانا علی رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ
امیرِ احرار حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی، شیرِ پنجاب علیہ الرحمہ
حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب، صدر جمعیت علمائے ہند
حضرت مولانا حکیم الدین صاحب دامت برکاتہ، ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند
حضرت مولانا مفتی راشد صاحب، نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند
حضرت مولانا محمد عرفان صاحب، مبلغ دارالعلوم دیوبند
حضرت مولانا محمد راشد صاحب، ناظمِ تنظیمِ ترقی دارالعلوم دیوبند
حضرت مولانا محمد سفیان صاحب قاسمی، مہتمم دارالعلوم دیوبند
حضرت مولانا فرید الدین صاحب قاسمی، شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند
حضرت مولانا سید انظر حسین میاں صاحب، دارالعلوم دیوبند
حضرت مولانا قاری محمد قاسم صاحب، امام و خطیب، چنئی
حضرت مولانا محمد طاہر صاحب قاسمی، بنگلور
حضرت مولانا محمد عثمان صاحب لدھیانوی، امیر مجلسِ احرار، لدھیانہ، پنجاب
حضرت مولانا حافظ عبدالقدوس صاحب، صدر جمعیت علماء اتر پردیش
حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب بھٹکلی، نائب ناظم ندوۃ العلماء، لکھنؤ
حضرت مولانا عبدالحمید صاحب، صدر جمعیت علماء ضلع بستی
حضرت مولانا عبداللہ ابن قمر صاحب، صدر رابطہ مساجد
حضرت مولانا محمد شاہد صاحب، سابق ناظم مظاہر علوم سہارنپور
حضرت مولانا قاری عبدالرحمن صاحب طیبی، سہارنپور
حضرت مولانا نجم الحسن صاحب، سجادہ نشین خانقاہ اشرفیہ، تھانہ بھون
حضرت مولانا قاری محمد عفان صاحب منصورپوری، شیخ الحدیث جامع مسجد امروہہ
عاشقِ قرآن حضرت مولانا غلام محمد استانی صاحب
امیرِ شریعت مہاراشٹر حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب فتح پوری
محترم سید حامد صاحب، وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
محترم نواز دیوبندی صاحب
محترم جناب ماجد دیوبندی صاحب
محترم جناب حسن الہاشمی صاحب
محترم جناب سید سجاد صاحب، پروفیسر چنئی یونیورسٹی
محترم جناب مولانا تمیم احمد صاحب، پروفیسر چنئی یونیورسٹی
جناب مولانا محمد ہاشم صاحب، امام و خطیب، درگ، چھتیس گڑھ
محترم جناب ڈاکٹر مولانا عزیر احمد صاحب، صدر مرکزی جمعیت علماء، دہلی
عارف باللہ مولانا مفتی عبدالقیوم صاحب رائے پوری علیہ الرحمہ
بقیۃ السلف حضرت مولانا ظہور احمد صاحب، صدر جمعیت علماء ضلع سہارنپور

اور دیگر عزیز و اقارب و محبین بھی جامعہ کی علمی و دینی سرگرمیوں سے وابستہ رہے ہیں۔

انتظام و تسلسل

جامعہ کی موجودہ تعلیمی و انتظامی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے میں مولانا محمد ابراہیم قاسمی بستوی صاحب کی انتظامی ذمہ داریاں اہم ہیں۔ ان کی نگرانی میں جامعہ اپنے تعلیمی و تربیتی مقاصد کی تکمیل اور ادارے کی ترقی و استحکام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔

جامعہ کا مستقبل اور آپ کی ذمہ داری

الحمدللہ! جامعہ قاسمیہ کا یہ مبارک مشن مسلسل جاری ہے، تاہم مزید ترقی، استحکام اور تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کے بہتر تسلسل کے لیے اہلِ خیر کی خصوصی توجہ، دعاؤں اور تعاون کی ضرورت ہے۔

آپ کی معمولی سی معاونت بھی کسی طالب علم کی تعلیم کا ذریعہ، قرآنِ کریم کی خدمت کا وسیلہ اور ایک روشن مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے۔

اس لیے جامعہ آپ کے گراں قدر تعاون کا مستحق ہے۔ اپنی خصوصی دعاؤں اور عطیات میں اس ادارے کو ضرور یاد رکھیں۔ دین کی تعلیم، قرآن کی خدمت اور طلبہ کی تربیت کے اس مبارک کام میں آپ کی شرکت آپ کے لیے دنیا میں باعثِ خیر اور آخرت میں اجر و ثواب کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

اختتامی پیغام

جامعہ قاسمیہ دارالتعلیم والصنعۃ محض ایک عمارت یا تعلیمی ادارے کا نام نہیں، بلکہ یہ قرآن کی خدمت، دینی تعلیم، اسلامی فکر، اخلاقی تربیت اور نسلِ نو کی تعمیر کے ایک مسلسل مشن کا نام ہے۔

یہ سفر اللہ رب العزت کے فضل، اکابر کی دعاؤں، اساتذہ کی محنت، طلبہ کی جدوجہد اور اہلِ خیر کے تعاون سے آگے بڑھ رہا ہے۔

ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، اسے دین و ملت کے لیے نافع بنائے، اس کے بانی و منتظمین، اساتذہ، معاونین اور تمام وابستگان کی خدمات کو شرفِ قبول بخشے، اور اسے آنے والی نسلوں کے لیے علم و ہدایت کا روشن مرکز بنائے۔

آپ بھی اس مبارک مشن کا حصہ بنیں، جامعہ کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور اپنی استطاعت کے مطابق تعاون فرمائیں۔

وَمَا تَوْفِيقُنَا إِلَّا بِاللّٰهِ